سرمایہ دارانہ چالاکیاں۔۔۔سانوؔل عباسی

خدا کا پیدا کردہ نظام خالصتاً منصفانہ ہے جس میں کسی کو کوئی حق نہیں پہنچتا کہ وہ کسی کے حقوق سلب کرے اور اگر کوئی ایسا کرتا ہے تو یہ اس کا ذاتی فعل ہے۔ اس کا خدا کے نظام سے کوئی تعلق نہیں۔ جب کوئی خدا کے نظام سے ہٹ کے اپنے مفاد کو ترجیح دیتا ہے تو اس سے معاشرے کا توازن بگڑتا ہے جو بہت سی معاشی ، معاشرتی و اخلاقی ناہمواریوں کا سبب بنتا ہے۔ معاشی ، معاشرتی و اخلاقی استحصال کو خدا سے منسوب کرنا خدا کو اس کا ذمہ دار ٹھہرانا یہ ظلم ہے یہ خدا کا پیدا کردہ نظام نہیں بلکہ یہ خدا پہ تہمت ہے کہ یہ اخلاقی معاشرتی و معاشی غیرمساویانہ تقسیم اس کی پیدا کردہ ہے ۔
سرمایہ دار طبقہ خدا کا نام استعمال کر کے معاشرے کا استحصال کرتا ہے اور چونکہ مذہب کسی بھی معاشرے کا بہت نازک اور جذباتی پہلو ہے تو سرمایہ دار طبقہ ایسے مفاد پرست مذہبی لوگوں کو اپنے ساتھ ملاتا ہے جو لوگوں میں اس قسم کی سوچ پیدا کرتا ہے کہ یہ معاشرتی ، معاشی و اخلاقی استحصال خدا کے پیدا کردہ نظام کا حصہ ہے اور اس کے متعلق خود سے سوچنا بھی گناہ عظیم ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مذہبی اقدار کے متعلق سوچنا اور سمجھنا معاشرتی عیوب میں شمار ہوتا ہے اور اس قسم کی ذہنیت پیدا کی جاتی ہے جس سے لوگوں میں یہ احساس جگایا جاتا ہے کہ اسی حالت پہ اکتفا کرنے سے ہی ہم خدا کے قریب ہو سکتے ہیں اور اسی حالت میں خدا کے آگے ایک اعلیٰ مقام حاصل کر سکتے ہیں۔
قطع نظر اس کے کہ اس بات کی تصدیق کی جائے کہ یہ واقعی خدا کی طرف سے ہے یا چند مفاد پرست عناصر خدا کا نام استعمال کر کے اپنے مفادات کو تحفظ فراہم کر رہے ہیں، ہم بغیر سوچے سمجھے مان لیتے ہیں یہی وجہ ہے کہ سرمایہ دار طبقہ کھلے عام معاشرے کا استحصال کرتا ہے۔ لوگوں کی مجبوریوں سے فائدہ اٹھاتا ہے اور ان کے حقوق پہ غاصبانہ قبضہ اپنا حق سمجھتا ہے اور اسے نظام خداوندی قرار دیتا ہے ۔ اس کی سند کے طور پہ چند مفاد پرست مذہبی ذہن ویسے ہی اس کے ساتھ ہوتے ہیں جو اس کی پارسائی کے گن گاتے ہیں اور مصنوعی طور پہ ان کی پیدا کردہ غربت ،مفلسی و غیر مساویانہ تقسیم کو مشیت ایزدی کا نام دیتے ہیں اور یہ مفاد پرست مذہبی ذہنیت و سرمایہ دار ایک دوسرے کے مفاد کا ہر ممکن تحفظ کرتے ہیں۔ جہاں یہ سرمایہ دار کو کھلے عام خدا کے نام پہ انسانوں کااستحصال کرنے کے لئے راہ ہموار کر کے دیتے ہیں وہاں پہ یہ سرمایہ دار انکی علمی و عملی دھاک بٹھانے میں مصروف ہوتے ہیں کہ یہ نہ ہوں تو معاشرہ جہالت کی تاریکیوں میں غرق ہو جائے اور یہ صحیح طور پہ نظام خداوندی کو بیان کرنے والے ہیں ان کے بغیر تو نظام خداوندی کو سمجھنا جوئےشیر لانے کے مترادف ہے اور اگر کوئی اپنے طور سمجھنے کی کوشش کرے گا تو راندہ درگاہ ہو جائے گا۔
سمجھنے اور غور کرنے کی بات یہ ہے کہ نہ یہ سرمایہ دار خدا کو اتنے عزیز ہیں اور نہ ہی خدا کو مفلس و نادار طبقے سے کسی قسم کا کوئی بغض یا عناد ہے، اس کا قانون سب کے لئے ایک ہے کوئی بھی اس کے قانون کی رو سے اعلیٰ و ارفع نہیں،مفلس و نادار طبقے کو صرف سوچنا ہے، مدعا خدا پہ ڈالنے کی بجائے اپنے نصیب کو کوسنے کی بجائے،یہ سمجھنا ہے کہ کہیں خدا کا نام لے کے ہمیں بے وقوف تو نہیں بنایا جا رہا؟ اپنی آنکھیں کھولنی ہوں گی اور اپنے حقوق کے متعلق جاننے کی کوشش کریں۔ اپنے آپ کو پہچاننے کی کوشش کریں۔ مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق کا مطلب یہ نہیں کہ کوئی کسی سے برتر ہے ،کسی کو کسی سے افضلیت نہیں ۔سب ایک جیسے انسان ہیں اپنے حقوق غصب کرنے والوں کو پہچانیں، ان کے آلہ کار بننے کی بجائے خدا کے نظام کی نمائندگی کریں، جو خالصتًا انصاف پہ مبنی ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے