لکیر کے قفیر۔۔۔سانوؔل عباسی/اختصاریہ

یہ ہمارا عمومی رویہ ہے جب بھی کوئی بات کرتے ہیں تو اپنی بات کو باوزن کرنے کے لئے مختلف حوالوں کا سہارا لیتے ہیں۔ تاریخ میں بہت سے انسانوں نے اپنی علمی استعداد کے مطابق پُرخلوص محنت کی ہے مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم فقط ان کی کہی ہوئی باتوں کو چباتے رہیں اور سماج کو علمی جمود کی دلدل میں دھکیل دیں ۔انکی باتیں ،ان کا علم، ان کے استدلال۔۔ فی زمانہ موجود سماجی حالات کے مطابق بہت بہترین رہے ہونگے مگر ہمارے زمانے و سماج کے لیے وہ تمام تفکرات اجنبی محسوس ہوتے ہیں ہم انکی محنت کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم ان کی پوجا شروع کر دیں۔

میرا خیال ہے کہ ہم ان کا سہارا لیے بغیر اگر اپنی بات کریں گے تو بات زیادہ پُرمغز ہو سکتی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے