حوروں کی پریشانی ۔ سانوؔل عباسی

زمین پہ افراتفری کا عالم ہے ہر شخص جنت میں جانے کا خواہاں ہے ۔ حور و غلمان کی طلب نے انسانوں کے حواس کو بےقابو کیا ہوا ہے اور یہ طلب اتنی شدید ہے کہ دنیا میں ایک دوسرے کا جینا دوبھر کیا ہوا ہے ، جنت کی چاہ میں دنیا کو دوزخ بنایا ہوا ہے ۔ ہر شخص اپنی دانست میں جنت کا پرندہ بنا ہوا ہے اور اپنی اس برتری کو ثابت کرنے کے چکر میں ایک دوسرے کو دوزخ کے جانور شمار کرتے ہیں ، سب خود کو خدا کا لاڈلا سمجھتے ہیں کس کی بات سنیں اور کس کی رد کی جائے ؟ کچھ من چلے جلد باز تو ایسے ہیں جنہیں جنت میں جانے کی اتنی جلدی ہے کہ اپنے ساتھ دوسروں کا بھی قلع قمع کر دیتے ہیں۔

آسمان جنت سے حوریں جب دیکھتی ہیں کہ درندہ صفت ہوس پرست ظالم لوگ رال ٹپکاتے کتنے وثوق سے ان پر اپنی ملکیت کا دعوی کر رہے ہیں تو گھبرا جاتی ہیں ۔ چہ مگوئیاں شروع ہوتی ہیں کہ کیا کیا جائے ؟کوئی کہتا ہے کہ یہ محض ان آوارہ مزاج لوگوں کا خیال ہے اب ان ظالموں کے لئے تو جنت نہیں ہے ناں ؟ ایسے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں کسی کے دعوی کرنے سے کیا ہوتا ہے کہ جنت تو نفیس قسم کے انسان دوست خداپسند لوگوں کے لئے ہے ۔ کوئی آواز لگاتی ہے یہ ہمیں ایسے ہی تسلیاں دئے جا رہی ہے اس کی باتوں میں نہیں آنا میرا تو سوچ سوچ کلیجہ منہ کو آ رہا ہے ہائے اللہ دیکھو تو سہی شکل سے ہی وحشت ٹپکتی ہے محبت و انسان دوستی جن کو چھو کر نہیں گزری نجانے کس بنیاد پہ اتنے بڑے دعوے کرنے لگے ہیں،؟
رو رو کے حوروں کا برا حال سر باندھے ہوئے ہیں ایک دوسرے کو سوالیہ نظروں سے دیکھتی اور ایک درد ناک آہ بھر کے گلے لگ کے دوبارہ رونے لگتی ہیں آوازیں بلند ہونا شروع ہوتی ہیں ان میں سے کوئی کہتی ہے رب العزت سے درخواست کرتے ہیں ان کی گستاخیاں اور اعمال دیکھو اور دعوے دیکھو ان ہوس کے مارے لوگوں کے تو ایک کہتی ہے وہ ان پاگلوں کی باتوں سے وہ کون سا بے خبر ہے ؟وہ تو العلیم الخبیر ہے وہ تو سب جانتا ہے تو کوئی کہتی چلو ہمیں کوئی تسلی مل جائے ، ہمیں کچھ پتہ چل جائے گا۔

خدائے واحد جو سب جانتا ہے سب دیکھ رہا تھا یہ چہ مگوئیاں کہاں اس سے چھپی تھیں کہ وہ تو دلوں کے حال بھی جانتا ہے ۔ یہ عالم اس نے دیکھا تو ان سے کہا تم سب کیوں پریشان ہو؟ حالانکہ وہ سب جانتا تھا مگر ان کی تشفی مطلوب تھی ۔ حوریں تھر تھر کانپنے لگیں کہ اپنا مدعا کیسے بیان کریں مگر شانِ رحیمی و کریمی کو دیکھ کر انہیں کچھ حوصلہ ہوا ان میں سے ایک نے بات شروع کی کہ یاخدا ویسے تو تو سب جانتا ہے مگر جب ہم زمین پہ خدائی کے دعوے دار انسانوں کو انسانیت سوز حرکتوں میں ڈوبے لوگوں کو اپنی طلب میں پاگل دیکھتی ہیں تو چکرا جاتی ہیں ۔ ترا پیغام تری باتیں انہوں نے پس پشت ڈال کر اپنی بات اپنی ذات اپنے نفس کو خود پہ مسلط کیا ہوا ہے اور اسے تیرے نام سے پیش کرتے ہیں ان گمراہ لوگوں نے انسانوں کا جینا دوبھر کیا ہوا ہے ، عام سادہ لوح انسانوں کے جذبات سے کھیلتے ہیں ، انہیں گمراہ کرنے میں لگے رہتے ہیں۔ انسانوں کو گروہی تعصبات میں تقسیم در تقسیم کے پیچیدگیوں میں الجھا کے ان کے حقوق پہ ڈاکہ ڈالتے ہیں ، اپنے مفاد کے لئے انسانوں کو آپس میں دست و گریباں رکھتے ہیں ، اپنی چرب زبانی سے حق کو ناحق میں بدل دیتے ہیں ان کو آپ کے پیغام سے کچھ لینا دینا نہیں ، مگر اپنے ذاتی مفاد و انا کی تسکین کے لئے اسے توڑ مروڑ کے اپنی دکان چمکاتے ہیں ۔ اپنے تھوڑے سے کم وقتی مفاد کے اگر پوری انسانیت بھی قربان کرنی پڑ جائے تو بالکل نہیں چوکتے ۔ یا خدا !اب ہم کیا کہیں تو تو ہم سے بہتر جانتا ہے ان انسان نما درندوں کو جو انسانیت سے کھلواڑ کرتے ہیں ۔ یاخد!اب آپ خود دیکھیں کہ ان کے کیسے کرتوت ہیں اور ان کے دعوے کیا ہیں ؟یہ ظلم کے پروردہ نہ جانے کون سی خوش فہمی میں مبتلا ہیں اور ہوس آنکھوں میں لے کر جتنے وثوق سے ہماری ملکیت کا دعوی کرتے ہیں تو ہم پریشان ہو جاتی ہیں کہ اگر ایسا ہو گیا تو کیا ہو گا۔؟

خدا سن کے مسکرا دیتا ہے اور انتہائی شفقت سے انہیں تسلی دیتا ہے اور فرماتا ہے کہ ارے ، بھولی بھالی حورو! کیوں پریشان ہوتی ہو کسی کے کہنے سے کیا ہوتا ہے؟ اب ایسا تھوڑی ہے کہ جو جیسا کہے گا ویسا ہو جائے گا ۔ میں ان کا پابند تھوڑی ہوں نہ مجھ سے انہوں نے کوئی عہد لیا ہوا ہے ۔ میں نے ، جو یہ کائنات بنائی ہے اس کا ایک قانون ہے ایک ضابطہ ہے اور ہر چیز اس قانون اس ضابطے کی پابند ہے ۔ انسان اس کائنات میں کچھ آزاد ہے اور جتنا وہ آزاد ہے ، اتنی آزادی کے لئے اس کے پاس میرا دیا پیمانہ ہے ۔اب یہ پیمانہ ایک قانون ہے ان کے لئے اور وہ وقتی طور پہ آزاد ہیں اب جو کوئی اس پیمانہ کے مطابق ہو گا وہی حقدار جنت و حور ہو گا ۔ یہ اپنی چرب زبانی کا جادو اپنے جیسوں پہ تو چلا سکتے ہیں اور جن پہ جادو چلے گا ان کو بھی جو وبال ہو گا سو ہو گا مگر جو ان پہ اپنی چرب زبانی سے اپنے نفس کو ان مسلط کریں گے ان کے لئے دگنا وبال ہے

میں خدا ہوں! ان کا خالق ہوں ، ان کی ہر بات ہر سوچ سے باخبر ہوں ۔ مجھے سب معلوم ہے کون کیا سوچتا ہے ؟کون کیا کرتا ہے ؟ان کی سب حرکتیں جب ان کے منہ پہ ماری جائیں گی انہیں تب احساس ہو گا مگر اس وقت یہ کسی قابل ہی کہاں ہوں گے۔؟

جو انسان جنت اور تمہارے حقدار ہیں وہ تو بہت نفیس، انسان دوست، نرم خو، صاف دل، محبت سے سرشار واقعتاً انسان ہیں وہ آپس میں ایک دوسرے سے اس لئے محبت کرتے ہیں کہ وہ میری مخلوق ہیں انسانیت کے اعلی اخلاق سے آراستہ شریف النفس شائستہ قسم کے انسان ہیں تم ان بےحسوں کی باتوں پہ کان نا دھرا کرو یہ خود اپنے بڑے دشمن ہیں ایسے پریشان ہونے کی چنداں ضرورت نہیں۔

حوروں کے تحفظات دور ہوئے ، کچھ طمانیت کا احساس ہوا مگر اتنا رونے دھونے کی وجہ سے چہروں کے تاثرات میں ابھی تک اداسی کا عنصر غالب تھا تو فرشتہ عزرائیل نے حوروں سے کہا اے حورو !اب چلو تمہیں ایک ایسے بندے سے ملواتا ہوں جو تمہارے چہروں کی اداسی کو کافور کر دے گا ۔ تمہیں احساس ہی نہیں ہو گا کہ کبھی تم پریشان بھی تھیں ۔ وہ تمہارے ساتھ رہے گا تاکہ تمہارا دھیان ہی دوبارہ اس طرف نہ پھٹکے ، تمہیں زمین پہ ان ناہنجار انسانوں کو دیکھنے کی فرصت ہی نہیں ملے گی ۔ حوروں نے پوچھا کہ ایسا کون خوش بخت ہے جو اتنا عطائی ہے کہ اداس چہروں میں خوشیاں بھر دیتا ہے، جو مایوس لوگوں میں زندگی کی لہریں دوڑا دیتا ہے ہمیں دکھاؤ تو سہی بلکہ جلدی ملواؤ اور اسے یہاں لے کے آؤ۔ ان کی عجلت دیکھ کر فرشتہ انہیں مشتاق احمد یوسفی کے کچھ اقتباسات سناتا ہے ۔ جیسے ہی حوروں نے یوسفی صاحب کے اقتباسات سنے تو یکا یک فضا قہقہوں سے گونج اٹھی جن چہروں پہ تھوڑی دیر پہلے جو اداسی کے تاثرات تھے فورا تبدیل ہو کر خوشیوں بھرے رنگ بن گئے حوریں سنتی جا رہی تھیں اور ہنس ہنس کے لوٹ پوٹ ہوتی گئیں کہ انہوں نے فرشتے سے کہا اب اس شخص کو جلدی یہاں لے کے آؤ تو فرشتے نے کہا ہاں دنیا میں بھی یوسفی صاحب کا کام ختم ہوا چاہتا ہے وہ بھی آپ سے ملنے کے لئے کراچی کے ہسپتال میں کروٹیں لے رہے ہیں انہیں بھی شوق دیدار حسن نے بےچین کیا ہوا ہے میں انہیں لے کے آتا ہوں۔

یوسفی صاحب اپنی آخری منزل پدھار گئے ۔ یوسفی جن کے قلم سے نکلے لفظ خوشیوں کی نوید اور سوچنے پہ غم کا سامان ہوا کرتے تھے ایک بہترین اور بھرپور زندگی گزارنے کے بعد ان کو جنت میں بلایا گیا ہے وہاں اب وہ حوروں کے ساتھ ایک شام پروگرام کیا کریں گے ۔ موصوف اب جنت میں حوروں کا دل بہلائیں گے جو بہت پریشان رہتی ہیں زمینی مولویوں، پادریوں، پروہتوں جنہوں نے انسانیت کو تباہ و برباد کرنے میں کوئی کسر نہیں اٹھا چھوڑی ان کے دعوے سن سن کر کہ وہ نعوذ باللہ جنت میں جائیں گے اور وہ اسی دکھ میں گھلتی جا رہی ہیں۔
اللہ تعالی مغفرت فرمائے درجات بلند فرمائے اور جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے آمین ثم آمین یا رب العالمین۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے